How to treat classin urdu - Newartby

This is one of the best website for health article free and some new offer.

Hot

Post Top Ad

Wednesday, 11 September 2019

How to treat classin urdu

کلاس کو کنٹرول کیسے کریں؟
islamicedu for you
How to treat classin urdu


معزز اساتذہ ساتھیو !
تدریس صرف ایک مقدس پیشہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک کارِ پیغمبری ہے۔ اساتذہ وہ سانچہ ہے جہاں نسلیں ڈھلتی ہے۔ تدریس ایک فن بھی ہے جو کڑی محنت اور لگن کا متقاضی ہے۔ جس طرح دیگر فنون کو ہمیں سیکھنا پڑتا ہے اور صرف اس کی  کتابیں پڑھنا ہی کافی نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح تدریس کا صرف ایک سالہ یا دو سالہ کورس کرنے سے کوئی کامیاب مدرس نہیں ہوجاتا۔

 دورانِ تدریس ہمیں کچھ مسائل درپیش ہوتےہیں جن کا ازالہ کیے بغیر ہماری تدریس موثر ثابت نہیں ہوسکتی۔ ان ہی مسائل میں ایک اہم مسئلہ کلاس کنٹرول کا بھی ہے۔

ساتھیو! ہماری اچھی سے اچھی تدریس بھی کوئی معنی نہیں رکھتی اگر ہمارا کلاس روم پر کنٹرول نہ ہو اور طلبہ شوروغل کر رہے ہوں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ کس جماعت کے طلبہ و طالبات ہیں۔

کلاس کنٹرول کرنے کے سلسلے میں ماہرین نے بہت کچھ لکھا ہے آپ اس  کا مطالعہ ضرور کریں لیکن میں یہاں پر اپنے تجربات کی روشنی میں   چند مشورے آپ کی خدمت میں رکھنا چاہتاہوں۔ اگر ان پر عمل کیا جائے تو ممکن ہے کہ آپ کو فائدہ پہنچے۔

۱) اپنے مضمون پر مہارت حاصل ہونا چاہیے، آگر نہیں ہے تو حاصل کرنے کی کوشش کیجئے اور یہ آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ بچے کبھی بھی اس ٹیچر کو ذیادہ دن برداشت نہیں کر سکتے جو انھیں کچھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

۲) اپنے عنوان کو ذیادہ سے ذیادہ آسان، عام فہم اور دلچسپ بنانے کی کوشش کیجئے۔ کمرہؑ جماعت کا ماحول ہمیشہ خوشگوار رکھیں۔

۳) مثالیں ہمیشہ اپنے آس پاس کی دیجئے جو ہماری روزمرہ زندگی سے مربوط ہو۔

۴) بچوں سے دورانِ تدریس بیچ بیچ میں سوالات کرتے رہیں اس سے انھیں یہ احساس رہے گا کی آپ کبھی بھی کسی بھی طالب علم کو کچھ بھی سوال کر سکتے ہیں۔ بالخصوص Back benchers کو ۔اس سے وہ چاق و چوبند اور alert رہیں گے۔

۵) شرارت کرنے والے بچوں کو سزا بھی دیجئے یہ سنت اللہ بھی ہے اور سنتِ رسولﷺ بھی۔ البتہ اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ سزا کبھی بھی غصے کا نتیجہ نہ ہو، سزا دیتے وقت اپنے آپ پر پورا قابو ہو اور سزا اتنی ہی ہو جتنی انصاف کو ضروری لگے۔

۶) بچوں کی نفسیات کو جاننے کی کوشش کیجئے۔ بچے تین صورتوں میں شرارت کرتے ہیں۔
الف) جب انھیں کچھ بھی سمجھ میں نہ آرہا ہو۔
ب) جب وہ بوریت محسوس کررہے ہوں۔
ج) جب وہ ٹیچر سے قطعی طور پر ڈرتے نہ ہو۔

۷) اپنی عادات واطوار، اپنی گفتگو، اپنے رہن سہن اور اپنےحسنِ اخلاق سے اپنی شخصیت کو پر اثر اور جاذب نظر بنائیے تاکہ طلبہ آپ کی تعظیم کریں۔

No comments:

Post a comment